ہو گیا حاجِیوں کا شُروع اب شُمار
تیری نظرِ کرم کا ہوں اُمّیدوار
پھر مدینے کی جانب چلے قافلے
از پئے غوثِ اعظم نگاہِ کرم
میرے میٹھے مدینے کی کیا بات ہے
جس قَدَر بھی ہیں اسلامی بھائی بہن
عَرش پر فرش پر خُلد پر خَلق پر
کیجئے دُور دنیا کے رنج و اَلَم
میرے نزدیک آئے نہ پت جھڑ کبھی
پھنس گئی ناؤ عِصیاں کے طوفان میں
میرے دامانِ تَر کی شفیعُ الورٰی
سنّتوں کا میں چرچا کروں رات دن
اے مدینے کے زائر درِ پاک پر
پیرومرشِد کے صدقے ہو ایسی عطا
— Unknown
