شرف مجھ کو ہر سال حج کا خدا دے
تو مکہ دکھا دے، مدینہ دکھا دے
شرف دِید کعبہ کا دیدے الٰہی
منیٰ کے دل آویز و دلکش نظارے
میں اِحرامِ حج باندھ کر آؤں عرفات
الٰہی! تجھے واسطہ فاطمہ کا
علی فاطمہ کا، حسین و حسن کا
جو ہجر مدینہ میں روتے ہیں یا ربّ
ترے خوف سے تیرے پیارے کے غم میں
تجھے واسطہ چار یاروں کا یا ربّ
عبادت میں لگ جائے دل یا الٰہی
خدا! نفس نے ہے تباہی مچائی
سیہ ہے مرا سارا اعمال نامہ
مجھے نزع و قبر و قیامت میں مولیٰ
تو نورِ محمد ﷺ کے صدقے میں یا ربّ
مری مغفرت کر برائے صحابہ
عذابِ جہنم سے خوف آ رہا ہے
تجھے واسطہ شاہِ کرب و بلا کا
تو جسمانی بیماریاں دُور فرما
مبارک ہو پھر ماہِ میلاد آیا
خدا! دے وہ عطارؔ کو سوزِ الفت
— Muhammad Ilyas Atar Qadri\
