ہو بیاں کس سے تمہاری شان وعَظمت یارسول
جب بھی آتا ہے تِرا یومِ ولادت یا رسول
عَرش پر بھی سلطنت ہے فَرش پر بھی سلطنت
دولتِ دنیا کے پیچھے مارا مارا کیوں پھروں !
جو تڑپتے ہیں مدینے کے لئے آقا اُنہیں
لمحہ لمحہ بڑھ رہی ہیں ہائے! نافرمانیاں
کاش! ہنسنے کے بجائے مجھ کو رونا ہو نصیب
نیکیوں میں یارسولَ اللہ دل لگ جائے کاش!
یانبی! بے کار باتوں کی ہوعادت مجھ سے دُور
آمِنہ کے لال! مجھ کو دیجئے سوزِبلال
رَحمتِ عالم سرہانے مسکراتے آئیے
آپکے قدموں میں گر جاؤں گا فرطِ شوق سے
نارِ دوزخ میں گِرا ہی چاہتا تھا میں نثار
یاشہِ اَبرار! دے دو خُلد میں اپنا جَوار
نیکیاں بالکل نہیں ہیں نامۂ اعمال میں
— Unknown
