نہ میں باغی ہوں نہ منکر نہ نکوکاروں میں
سر رگڑتے ہیں سلاطینِ زمانہ آکر
ان کا بندہ جو بنا ہوگیا آزاد وہی
ان کا بندہ جو ہوا خلد ہے اس کی خواہاں
آج جو چاہیں کہیں پیروِ نجدیِ لَعِیں
شرم کر مہرِ قیامت مجھے آنکھیں نہ دِکھا
آنکھ تو کھول کے دیکھو ِنگہِ ِایماں سے
خوبیِ بخت سے ہوجائے زِیارت جو نصیب
آپ کے صدقے میں اے رُوحِ جناں جانِ چمن
اِک نبوت تو نہیں باقی ہیں جتنے اَوصاف
بے طلب اپنے بھکاری کی بھرے جو جھولی
ہاتھ اُٹھا کر مرے داتا مجھے ٹکڑا دے دو
کوہِ غم کاہ نہ کیوں کر ہو جمیلؔ رضوی
— Jamil Ur Rehman Qadri\
