ہیں صَف آرا سب حُور وملک اور غِلماں خُلد سجاتے ہیں
ہے آج فلک روشن روشن ،ہیں تارے بھی جگمگ جگمگ
قربان میں شان و عَظمت پر سوئے ہیں چَین سے بسترپر
جِبریل امین بُراق لئے جنت سے زمیں پر آپہنچے
ہے خُلد کا جوڑا زیبِ بدن رَحمت کا سجا سہرا سر پر
ہے خوب فَضامہکی مہکی چلتی ہے ہوا ٹھنڈی ٹھنڈی
یہ عِزّوجلال اللہ! اللہ! یہ اَوج وکمال اللہ! اللہ
دیوانو! تصوُّر میں دیکھو! اَسرٰی کے دولہا کا جلوہ
اقصٰی میں سُواری جب پہنچی جِبریل نے بڑھ کے کہی تکبیر
وہ کیسا حسیں منظر ہوگا جب دولہا بنا سروَر ہوگا
یہ شاہ نے پائی سعادت ہے خالِق نے عطاکی زیارت ہے
جِبریل ٹَھہَر کرسِدرہ پر بولے جو بڑھے ہم ایک قدم
اللہ کی رَحمت سے سرور جاپہنچے دَنَا کی منزِل پر
مِعراج کی شب تو یاد رکھا پھر حشر میں کیسے بھولیں گے
— Unknown
