وہ ماہِ عرب آج کعبہ میں چمکا
نہ ہوتا اگر وہ تو کچھ بھی نہ ہوتا
ہوا اس طرف رحمت حق کا دورہ
میں اس عدل و انصاف و رحمت کے قرباں
کیا سارے عالم کو سرشارِ وَحدت
ملی ہم کو اِسلام و اِیماں کی دولت
ہے کافی ہمارے لیے دو جہاں میں
عرب والے آقا کی دی جب دُہائی
یہاں پر لحد میں قیامت میں پل پر
عرب کے قمر مجھ کو صورت دکھادو
خدا نے انہیں لامکاں میں بلایا
جو رِضواں مَدینے کو دیکھیں تو کہہ دیں
ترے علم و سمع و بصیرت کا منکر
کہے شرک جس کو اسی میں ہو شامل
جمیلؔ اپنے آقا کا مِدحت سرا ہے
— Jamil Ur Rehman Qadri\
