ہُوئیں اُمّیدیں بارآوَر مدینہ آنے والا ہے
پِلادے ساقِیا ساغَر مدینہ آنے والا ہے
عطا ہو مجھ کو چشمِ تَر مجھے دیدو دلِ مُضطَر
تڑپنے کا قرینہ دو مجھے دو چاک سینہ دو
مبارَک ہو گنہگارو! خطاکارو! سِیَہ کارو
مدینے کے مسافِر پر چھما چھم رَحمتوں کی اب
پڑھو اے زائرو! ملکر دُرُود اُن پر سلام اُن پر
ٹَھَہر جا روحِ مُضطَر تُو نکل جانا مدینے میں
دُرُودِ پاک کے گجر ے سلام و نعت کے تحفے
خوشی سے زائرو! جھومو فَضائیں جھوم کر چومو
نکال اب پاؤں سے جوتا قریبِ طیبہ تُو پہنچا
وہ برسا نور کا جھالا سماں ہے خوب اُجیالا
مبارَک! غم کے ماروں کو مبارَک!بے سہاروں کو
فضائیں بھی منوَّر ہیں ، ہوائیں بھی مُعطَّر ہیں
مِری ہو آرزو پوری مجھے مل جائے منظوری
وسیلہ چار یاروں کا اُحُد کے جاں نثاروں کا
نکالو، مصطَفٰے پیارے! خیالِ غیر اب سارے
اٹھو تعظیم کی خاطِر پڑھو تکریم کی خاطِر
اٹھو عطارؔ اب اٹھو! ذرا وہ غور سے دیکھو
— Unknown
