ہے آج جشنِ وِلادت نبی کی آمد ہے
جہاں میں بجتی ہے نَوبت نبی کی آمد ہے
ہوئی خدا کی عِنایت نبی کی آمد ہے
گُلوں پہ چھاگئی نُزہت نبی کی آمد ہے
ہے اک عجیب سی فَرحت نبی کی آمد ہے
نہ کیوں ہو وَجد میں قِسمت نبی کی آمد ہے
الٰہی! کرلوں زیارت نبی کی آمد ہے
ہے خوب بارشِ رحمت نبی کی آمد ہے
ہُوا ہے وا درِ رحمت نبی کی آمد ہے
برائے رُشد و ہِدایت نبی کی آمد ہے
عَدو پہ چھائی ہے ہَیبت نبی کی آمد ہے
بُتوں کی آگئی شامت نبی کی آمد ہے
خوشی کی آ گئی ساعت نبی کی آمد ہے
سجاؤ گھر کو چَراغاں کرو مَحلّے میں
مچاؤ دھوم سبھی مرحبا کے نعروں کی
سجا دو کوچہ و بازار سبز جھنڈوں سے
پکارو زور سے دیوانو! یارسولَ اللہ
اُٹھو ادب سے صلوٰۃ و سلام پڑھتے ہیں
پڑھو سلام کرو ڈُوب کر مَحَبَّت میں
کرم کے در ہیں کُھلے جھوم کر برستی ہے
کرو خدا سے دعائیں نہ ہو گی مایوسی
ہے شاد شاد مسلماں مگر عَدو ناخوش
جُلوسِ جشنِ ولادت میں نعت کی دھومیں
خوشی سے آج تو لَوٹوں گا خوب مچلوں گا
گھر آمِنہ کے چلو چل کے عرض کرتے ہیں
اے غمزدو! ہو مبارک کہ غم غَلَط ہو نگے
خوشی سے پھولے سماتے نہیں ہیں عُشّاق آج
کرو گناہوں سے توبہ تو خوش خُدا ہوگا
الٰہی! جشنِ ولادت کا واسِطہ ہم کو
بڑھا کے کاسۂ دل آج مانگ لومنگتو
نہ مانگنے میں کسر سائلو کوئی رکھنا
سبھی نبی صَفیں باندھے کھڑے ہیں اَقصیٰ میں
اندھیری گور میں گھبراؤ مت گنہگارو
جو خوش نصیب ہیں وہ اپنے رب کی رحمت سے
گناہ گارو لِپَٹ جاؤ آج قدموں سے
اندھیرا گُھپ تھا چَکا چَوند ہو گئی یک دم
کرم کی بارِشیں ہوں گی اے مجرِمو تم پر
فِرِشتگانِ عذاب اب تو چھوڑ دو مجھ کو
لِپٹ کے دامنِ رحمت سے قبر میں عطارؔ
— Unknown
