مجھے اُس کی قِسمت پہ رَشک آرہا ہے
یہ جو ہِچکیاں باندھ کر رَو رہا ہے
طبیبو! تُمہارا یہاں کام کیا ہے!
تِرے عاشِقوں کو قرار آئے کیونکر؟
بُلالو! اِسی سال آقا بُلالو!
تِرے دَر کے ہوتے کہاں جائیں آقا
ہماری تمنّائیں بر آئیں مولیٰ!
سَفینہ کبھی کا مِرا ڈوب جاتا
نگاہِ کرم حَالِ خَستہ جِگر پر
شِفا دو گناہوں کے اَمْراض سے اَب
غمِ دو جہاں سے چُھڑا کے خُدایا
مدینہ ہو سینہ تو سینہ مدینہ
رہے وِردِ لب بس مدینہ مدینہ
مُبلِّغ بنوں کاش! میں سُنّتوں کا
حبیبِ خُدا آکے چمکائیے اب
پئے پِیر و مُرشِد بقیعِ مُبارَک
شہا! مُسکراتے ہوئے آبھی جَاؤ!
شہا! اپنی جنّت میں قدموں میں رکھنا
نہ قدموں سے عطاّرؔ کو دُور کرنا
— Unknown
