راہبرِ ہستی نے واضح کر دیا خط کھینچ کر
دہر کے افکار پر، اعمال پر، احوال پر
مرحبا چشمِ تصور، آفریں دیدار دوست
ابتداۓ جلوہ ہے اور دیکھنے کا دم نہیں
سخت عاصیؔ ہوں، بُرے اعمال کا دوزخ ہوں میں
— Unknown
راہبرِ ہستی نے واضح کر دیا خط کھینچ کر
دہر کے افکار پر، اعمال پر، احوال پر
مرحبا چشمِ تصور، آفریں دیدار دوست
ابتداۓ جلوہ ہے اور دیکھنے کا دم نہیں
سخت عاصیؔ ہوں، بُرے اعمال کا دوزخ ہوں میں
— Unknown