پُوچھتے کیا ہو عَرش پر یوں گئے مصطفٰے کہ یوں
قصرِ دنٰی کے راز میں عقلیں تو گُم ہیں جیسی ہیں
میں نے کہا کہ جلوۂ اصل میں کس طرح گمیں
ہائے رے ذوقِ بے خودی دل جو سنبھلنے سا لگا
دِل کو دے نُور و داغِ عِشق پھر میں فدا دو نیم کر
دل کو ہے فِکر کس طرح مُردے جِلاتے ہیں حضور
باغ میں شکرِ وصل تھا ہجر میں ہائے ہائے گل
جو کہے شعر و پاسِ شرع دونوں کا حُسن کیوں کر آئے
— Ala Hazrat Imam Ahmed Raza Khan Barelvi\
