نگاہِ لطف کے اُمیدوار ہم بھی ہیں
ہمارے دَست تمنا کی لاج بھی رکھنا
اِدھر بھی توسن اَقدس کے دو قدم جلوے
کھلا دو غنچۂ دل صدقہ بادِ دامن کا
تمہاری ایک نگاہِ کرم میں سب کچھ ہے
جو سر پہ رکھنے کو مل جائے نعل پاکِ حضور
یہ کس شہنشہ والا کا صدقہ بٹتا ہے
ہماری بگڑی بنی اُن کے اِختیار میں ہے
حسنؔ ہے جن کی سخاوَت کی دُھوم عالم میں
— Hassan Raza Khan Barelvi\
