اور جو کُچھ بھی پڑھا رب کے دبستاں سے پڑھازندگی اپنی ، محبّت کے حوالے کردی
اِک یہی حرفِ حسیں کُوچہ ء جاناں سے پڑھاذات کیوں آپ کی ہوتی نہ فنا فی التّوحید
چہرہء خالقِ کونَین دل و جاں سے پڑھاخشک موسم میں بھی رہتا تھا بہا روں کا ہجوم
سبز خوشبو کا سبق زرد گلستاں سے پڑھااپنے آقا کے وہ پیدائشی دیوانے تھے
قصّہء عشقِ نبی ، مکتبِ یزداں سے پڑھاکاٹ دی عُمرِ عزیز آپ نے چلتے چلتے
مصحفِ شوقِ سفر ، گردشِ دَوراں سے پڑھااُن کی پرچھائیں بھی تھی آئنہ خانے کی طر ح
تیرے تیور، میرا زیور
تیرا شیوہ، میرا مسلک
مجھ کو عشق نبی، اس قدر مل گیا
جگمگائے نہ کیوں، میرا عکس دروں
