معراجِ بشر، نورِ خدا ہیں مرے آقاؐ
شان آپؐ کی کیسے کسی ادراک میں آۓ
ذات اُمؐ کی رہ زیست میں تنویرِ ہدایت
دنیا کی کشاکش ہوکہ ہو دیں کی تگ و دو
انساں پہ عیاں کرتے ہیں توحید کے اسرار
مقصود حیات آپؐ کا انسان کی بہبود
ایثار، کرم، خلق، رضا، صبر، محبت
ہے پرتوِ حق آپؐ کے اندازِ عمل میں
خورشید و قمر آپؐ کی تنویر سے روشن
حاصل ہے سِوا آپؐ کے کس کو یہ سعادت
مانگی تھی براہیم نے جو صحنِ حرم میں
گفتار نبئؐ درس ہے عرفانِ خدا کا
قرآن کا مفہوم عیاں انؐ کے عمل سے
پڑھتا ہوں درود آپؐ پہ اخلاص و وفا سے
ہے مجھ سا خطا کار بھی بخشش کا طلب گار
خوش بخت ہوں میں آپؐ کی امت میں ہوں ساقیؔ
— Rasheed Saqi\
