ہم کو اپنی طلب سے سوا چاہیے
کیوں کہیں یہ عطا وہ عطا چاہیے
اک قدم بھی نہ ہم چل سکیں گے حضور
آستانِ حبیبِ خدا چاہیے
آپ اپنی غلامی کی دے دیں سند
اپنے قدموں کا دھون عطا کیجۓ
عشق میں آپ کے ہم تڑپتے تو ہیں
درد جامی ملے نعت خالدؔ لکھوں
— Khalid Mehmood Khalid\
