جس میں آقا کی بات ہوتی ہے
ہاں وہ سمجھو قبول محفل ہے
نام نامی جو اُن کا لے کوئی
ہم فقیروں کی جھولیوں میں تو
ذکر خیرالوریٰ بھی ہو جس میں
اُن کے چہرے سے دن نکلتا ہے
اُن کے لب سے نکلتی ہے جو بھی
ہم فقیروں کی لاج اے ناصرؔ
— Unknown
جس میں آقا کی بات ہوتی ہے
ہاں وہ سمجھو قبول محفل ہے
نام نامی جو اُن کا لے کوئی
ہم فقیروں کی جھولیوں میں تو
ذکر خیرالوریٰ بھی ہو جس میں
اُن کے چہرے سے دن نکلتا ہے
اُن کے لب سے نکلتی ہے جو بھی
ہم فقیروں کی لاج اے ناصرؔ
— Unknown