جو محفلیں سجاۓ گا وہ رحمتیں پاۓ گا
نغمے درودوں کے لب پہ سجا لو سارے
اُن کی مرادیں ساری پوری ہو جائیں گی
آقا کی شفاعت کا حقدار وہ ہے بنتا
طوفانوں کا سن کر گھبرا ذرا نہ تو
روضے کا تصور کرکے لب پہ درود سجا
قبر و حشر کا سن کے گھبرا ذرا نہ ثاقبؔ
— Unknown
