عرش بھی پکارے ہیں فرش بھی پکارےہیں
آپ کے تبسم سے فیضیاب لگتے ہیں
مکے میں جلال ان کا طیبہ میں جمال ان کا
آپ کا سہارا ہے ہم غریب لوگوں کو
یاد کے جو قابل ہیں بھول جو نہیں سکتے
طیبہ کی ہوا نے ہی چین دل کو بخشا ہے
حشر میں خدا اُن سے یوں کہے گا اے ناصرؔ
— Unknown
