بن سکے تو عاشقِ رسولؐ بنجس نے قاتلوں پہ اپنی چھاؤں کی
رنگ بانٹتی ہے دُھول پاؤں کی
اوڑھنی ہے گردھنک تو دھول بنشب کو چادر اپنے سر پہ ڈال لے
تیرگی میں زندگی اجال لے
آپؐ کا وظیفہ و اصول بنقربتِ رسولؐ و رب میں چُور رہ
ناقبول بندگی سے دور رہ
صرف ایک سجدہء قبول بنچاہتا ہے گر حبیب کی رضا
چاہ کا ہے یہ ظفر اقتضا
تیرے تیور، میرا زیور
تیرا شیوہ، میرا مسلک
مجھ کو عشق نبی، اس قدر مل گیا
جگمگائے نہ کیوں، میرا عکس دروں
