در نبی پہ پڑا رہوں گا پڑے ہی رہنے سے کام ہوگا
اس توقع پہ جی رہاہوں یہی تمنا جلا رہی ہے
یہاں نہ مقصد ملا تو کیا ہےوہاں ملےگا طفیل حضرت
دیارِ رحمت پہ ہوگا قبضہ انہیں کاہرسو بجے گا ڈنکا
شفیع محشر لقب ہےان کااسے شفاعت سےکام ہوگا
خلافِ معشوق کچھ ہوا ہےنہ کوئی عاشق سےکام ہوگا
ہوئی جو کوثر پہ باریابی توکیفؔ میکش کی دھج یہ ہوگی
— Unknown
