خود کو شبِ فرقت میں مشکل سے سنبھالا ہے
ہونٹوں پہ درودوں کا مہکا ہوا یہ موسم
یہ شہر پیمبر ہےلے سانس بھی آہستہ
آنکھیں مری جھک جھک کرجالی سے لپٹتی ہیں
اوقات مری کیا ہے کیا نام و نسب میرا
مرکر بھی پڑے رہنا سرکار کی چاکھٹ پر
مفلس ہے ریاض آقا ہر ایک حوالے سے
— Unknown
