اُن لوگوں کی قسمت کے تابندہ ستارے ہیں
پرنور فضائیں ہیں پر کیف ہوائیں ہیں
نازاں ہیں مقدرپر بیٹھے ہیں سخی در پر
ہوتے ہیں نچھاور واں نذرانے درودوں کے
جو پیارکریں دل سے سرکار کے پیاروں سے
جب یاد کروں اُن کو امداد کو آتے ہیں
سرکار کے صدقے میں ہر چیز ملی ہم کو
بگڑا ہے نہ بگڑے گا کچھ میرا زمانے میں
جو دل سے سجاتے ہیں نعمتوں کی حسیں محفل
جاؤں گا نیازیؔ میں پھر شہر مدینہ میں
— Unknown
