میری میت پہ یہ احباب کا ماتم کیا ہے
وائے حسرت دم آخر بھی نہ آکر پوچھا
کچھ بگڑتا تو نہیں موت سے اپنی یارو
ان خیالات میں گم تھا کہ جھنجھوڑا مجھ کو
کون ہوتا ہے مصیبت میں شریک و ہمدم
کیف و مستی میں یہ مدہوش زمانے والے
ان سے اُمید وفا ہائے تری نادانی
وہ جو ہیں ہم سے گریزاں تو بلا سے اپنی
میٹھی باتوں پہ نہ جا اہل جہاں کی اخترؔ
— Mufti Akhtar Raza Khan Qadri Azhari\
