رُخ سے کاکَل ہٹا دیا تونے
شب کو ملنے کی دے کے اِک امید
رُخ زیبا کی اک جھلک سے حبیب
کوئی ارمان اب نہیں باقی
نہ رہی کچھ خبر سر و پا کی
میری باتوں پہ لوگ ہنستے ہیں
تاقیامت کبھی نہ اچھا ہو
کوئی آواز اب نہیں بھاتی
اپنے چہرے ایک درشن میں
کچھ نہیں یاد اب تو عَرَبی کو
— Shaykh Ul Islam Dr Muhammad Tahir Ul Qadri\
