جو گلے لگاۓ عدو کو بھی وہ رسول میرا رسول ہے
تو جو چاہے راضی ہو مصطفیٰ تو جو چاہےتجھ کو ملے
جہاں فرشیوں کے قدم لگے جہاں عرشیوں کے بھی سر جھکے
وہ جہاں جہاں سے گزرگۓوہاں پھول مہکے بہارکے
وہ نبی جو میراکرے میری بخششوں کی دعاکرے
اسے جھک کے چوما ہے عرش نے ہے لگی نبی کے یہ پاؤں
اسے کوئی ڈرہےنہ کوئی غم ہے نبی کا اس پہ سداکرم
یہی فیصلےہیں شعورکےسداگیت گاؤحضورکے
ہے تجھی سے عظمت سرمدی ہےتجھی سے حسن میں دلکشی
یہ نیازی جاۓ کہاں شہا کہ ہے نام لیوا یہ آپ کا
— Abdul Sattar Khan Niazi\
