آقا آقا بول بندے آقا آقا بول
ایسا دن بھی آجاۓ سرکارکےدرپہ بیٹھےہوں
سرورِ عالم پیارے آقا جدھرسےگزرا کرتےتھے
آؤ چلو دیوانو سارے شہرِمدینہ چلتے ہیں
عرش پہ جس پہنچے سارے نبیوں کےسلطان
جن کو ذکر ہے دونوں جہاں میں وہ ہیں میرےسرکار
پیارے نبی کا واسطہ دےکررب سےجو بھی مانگا ہے
جب سے ہوش سنبھالا ہے میں اُن کی نعمتیں پڑھتا ہوں
راشدؔ نعتیں لکھنا پڑھنا یہ ہے بڑا اعزاز
— Unknown
