طیبہ کی طرف ہے عزم سفردل وجد میں ہے جاں رقص میں ہے
طیبہ کی منور راگزردل وجد میں ہے جاں رقص میں ہے
واللیل کا روشن منظرہے والشمس کے نوری جلوے ہیں
لو ظلمتِ شام رنج والم اب دورہوئی کافور ہوئی
خورشید مدینہ کے جلوے راتوں کو منور کرتے ہیں
جب تشنہء الفت نےپاۓ اس ابررحمت کے چھینٹے
دیوانہء عشق حضرت ہوں بےگانہء عقل وہوش نہیں
پھریاد مجھے بھی فرمایا سرکارِ مدینہ نے افضل
— Unknown
