ہر ایک مسجد مدینہ ہو گی ہر اک موذّن بلال ہوگاچمک اٹھے گر ضمیر اپنےٗ جو ہوگئے ہم اسیر اپنے
ہر ایک آہٹ چراغ ہوگیٗ ہر ایک سایا ہلال ہوگاحضورؐ کے آئنے اٹھا کر چلے تو پہچانے جائیں گے ہم
سفارشِ عشق مصطفؐےٰ سے ہمارا باطن بحال ہوگاقرون اولیٰ سے رابطہ کر لیا جو اپنی ترقیّوں نے
محبتوں سے صداقتوں سے ہر آدمی مالا مال ہوگاجہاد کرنا ہے ہر گھڑی سے ،حساب لینا ہے زندگی سے
منائیں گے جشن خیر ، اس دن بدی کا جب انتقال ہوگاچنے گا جو راستے کے پتھرٗ اُسے زمانہ کہے گا رہبر
کسی کو ٹھوکر لگی تو ہر میر کارواں سے سوال ہوگاشریعتِ مصطفؐےٰ مظفر ، ہماری آئین ساز ہوگی
تیرے تیور، میرا زیور
تیرا شیوہ، میرا مسلک
مجھ کو عشق نبی، اس قدر مل گیا
جگمگائے نہ کیوں، میرا عکس دروں
صاحبّ التّاج وہ شاہ معراج وہ شہسوار بُراق و امیر عَلَم
