پھر سے بلاؤ جلد مدینے میں یارسول
دُنیا پرست زَر پہ مرے گل پہ عَندَلیب
بیمارِ ہجر کا ابھی ہو جائے گا علاج
دنیا کی لذّتوں سے مری جان چھوٹ جائے
میری زَبان تر رہے ذِکر و دُرُود سے
میری پسند خارِ مدینہ ہے بُلبلو
خوش بخت بے شُمار مدینے میں دَ فن ہیں
پَرچار سنّتوں کا جو کرتا ہے رات دن
دیتا ہوں تجھ کو واسِطہ یارب حُضور کا
غوث و رضا کا واسِطہ یاشافِعِ اُمَم
گر لمحہ بھر بھی حاضِری طیبہ کی ہو نصیب
سرکار! چار یار کے صدقے میں ہو کرم
— Unknown
