تمام عمر کی میری کمائی ہیں آنکھیںنقوشِ پائے محمد ﷺ سجے رہیں اِن میں
اسی لئے تو خدا نے بنائی ہیں آنکھیںہر ایک زائرِ طیبہ کے چوم لیں تلوے
درِ حضور ﷺ پہ مَیں نے بچھائی ہیں آنکھیںہر ایک طاق میں آنسو سجاتی رہتی تھیں
درِ حضور ﷺ سے ہو کر یہ آئی ہیں آنکھیںسرِ حسینؑ کو نیزے پہ دیکھ کر برسیں
بغور دیکھ مری کربلائی ہیں آنکھیںہر ایک بار مدینے کی خاک ہی نکلی
ہزار بار اگر آزمائی ہیں آنکھیںخنک ہوائے مدینہ سے دوستی کر کے
غضب کی دھوپ سے مَیں نے بچائی ہیں آنکھیںاب آسمانِ مدینہ کا حال کیا لکھوں
ادب سے طیبہ میں کس نے اٹھائی ہیں آنکھیںکبھی جو خواب میں بھی مَیں وہاں گیا ہوں ریاضؔ
پیچھے پیچھے موت ہے تیرے آگے آگے تو
اللہ باقی من کُل فانی
