عشق تیرا نہ اگر میرا مسیحا ہوتا
تیری نسبت نے سنوارا میرا اندازحیات
ہاۓ وہ سر جسے رفعت تری نسبت سے ملی
یہ مری اپنی طلب تھی کہ مجھے تو مل جاۓ
جس کی تنویر بنی غارِ حرا کا زینت
آنکھ کو دل نہ ملا، دل کو نگاہیں نہ ملیں
یاد سےجس کی مہکنےلگےصحراۓخیال
کاش یہ آنکھیں تری راہ کے تنکے چنتی
میں تیرے نام کی دیتا رہا دنیا میں صدا
کوئی حسرت بھی تو ہو،کوئی تمنا بھی تو ہو
مجھ کو مرغوب نہیں شہد کی نہریں ساقی
خاک ہوتا تو ہواؤں سے لپٹ کر اعظم
— Muhammad Azam Chishti\
