رہے دل میں جو یاد ان کی تو نزہت ساتھ رہتی ہے
جہاں جاؤں میں رہتا ہوں سدا رحمت کے ساۓ میں
میں تنہائی میں روضےکا تصور جب بھی کرتاہوں
محبت اُن سے ایماں کی جو شرط اولیں ٹھہری
نظر میں جن کی رہتی ہیں سنہری جالیاں ان کی
کوئی صدیق اکبر سے وفاؤں کا سبق سیکھے
تری الفت کے صحرا کے مسافر کی ہے خوش بختی
رہِ حق سے تو شیطاں بھی انہیں بھٹکا نہیں سکتا
عقیدہ ہے صحیح ان کا، وہی کامل ہیں ایماں میں
نہیں بٹتےوہ فرقوں میں جو ہیں ان کی غلامی میں
جلیل عاشق کا پتلی میں جو دم آتا ہے اس دم بھی
— Hafiz Muhammad Abdul Jaleel\
