سوۓ بطحیٰ یہ سمجھ کر ہیں زمانےجاتے
پردہ میم کے اسرار جو کھولےجاتے
رہتے سرکارکے کیا خلق سے جانےجاتے
مانع حشر ہے آقا کا نہ سمجھا جانا
سیرت پاک سے قرآں جو نہ روشن ہوتا
جسم کے ساتھ اٹھاۓ گۓ جبکہ عیسیٰ
ان کے کردار کا قد ناپ رہی ہے دنیا
بھول جاتے تھے صحابہ غم و آلام اپنے
— Unknown
