سرکار کے روضے کو ترستی ہیں یہ آنکھیں
اس بات کی دھن ہے انہیں بس دیکھیں مدینہ
شاید کہ کمی ان میں ہے جلوؤں سے ہیں محروم
لب میرے خموشی کی زباں بول رہےہیں
اِن آنکھوں کو اس کے سوا بھاتا نہیں کچھ بھی
اٹھ جاتی ہیں جس سمت تو رحمت ہے برستی
اُمت کے لۓ روئیں جو ان آنکھوں کے صدقے
— Azam Azeem Azam\
