مٹا دل سے غمِ زادِ سفر آہستہ آہستہ
زباں کو تاب گویائی نہیں رہتی مدینے میں
اتاری راح کی بستی میں جلوؤں کی دھنک اس نے
جگاۓ علم کے سورج سکھائی لفظ کی حرمت
محبت کا سلیقہ دے دیا وحشی قبائل کو
صبیحؔ ان کی اور تو کہ جیسے برف کی کشتی
— Sabeeh Rehmani\
مٹا دل سے غمِ زادِ سفر آہستہ آہستہ
زباں کو تاب گویائی نہیں رہتی مدینے میں
اتاری راح کی بستی میں جلوؤں کی دھنک اس نے
جگاۓ علم کے سورج سکھائی لفظ کی حرمت
محبت کا سلیقہ دے دیا وحشی قبائل کو
صبیحؔ ان کی اور تو کہ جیسے برف کی کشتی
— Sabeeh Rehmani\