اشک آنکھوں کو یہی بات بتانے آۓ
ہر طرف دھوم ہے سرکار کے مہمانوں کی
میں اسی آس پہ بیٹھا ہوں سرراہ گذر
ان کی چوکھٹ پہ پڑا ہوں تو بڑی موج میں ہوں
ان کی چوکھٹ پہ جبیں رکھی ہے اس عزم کے ساتھ
ہے فضا گوش بر آواز کہو واجد سے
— Wajid\
اشک آنکھوں کو یہی بات بتانے آۓ
ہر طرف دھوم ہے سرکار کے مہمانوں کی
میں اسی آس پہ بیٹھا ہوں سرراہ گذر
ان کی چوکھٹ پہ پڑا ہوں تو بڑی موج میں ہوں
ان کی چوکھٹ پہ جبیں رکھی ہے اس عزم کے ساتھ
ہے فضا گوش بر آواز کہو واجد سے
— Wajid\