خداۓ پاک کا قوسین کب ٹھکانا ہے
حرا بھی کُنتُ نبّیاً کا جلوہ خانہ ہے
شہود و غیب ہیں دونوں تجلیاں ان کی
خدا کی جلوہ گری کا عجب فسانہ ہے
کسے ہے منزل قوسین کی خبراب تک
تمہی ہومقصدِ تخلیقِ کائنات آقا
رموز جادۃ عشق رسول ایسے ہیں
کڑی ہے دھوپ تو کیا حادثات عالم میں
نبی شناس تو ہیں ہر زمانے میں لیکن
بشر کی فکر و نظر شوق کام کیا دے گی
— Khawaja Shouq\
