دلوں کےگلشن مہک رہےہیں یہ کیف کیوں آج آرہےہیں
نوازشوں پہ نوازشیں ہیں عنایتوں پہ عنایتیں ہیں
کہیں پہ رونقیں ہےمے کشوں کی کہیں پہ محفل ہےدل جلوں کی
نہ پاس پی ہوتو سُوناساون وہ جس سے راضی وہی سہاگن
کہاں کامنصب کہاں کی دولت قسم خدا کی یہ ہے حقیقت
حبیب داور،غریب پرور،رسولِ اکرم،کرم کے پیکر
میں اپنےخیرالوریٰ کےصدقےمیں ان کی شان عطا کے صدقے
گداکی اوقات ہے ہی کتنی حقیقتاً ہے یہ بات اتنی
جہاں پہ میں اب کھڑا ہوا ہوں یہ ذکرِ سرورکی برکتیں ہیں
بنے گا جانے کا پھر بہانہ کہے گا ا کرکوئی دیوانہ!
— Abdul Sattar Khan Niazi\
