نکھرے ہوۓ کردار کا قرآن ہے سجادؑ
یہ شہر فضائل ہے مسائب کا جہاں ہے
ہر دور میں احساس کی معراج ہے سجادؑ
جب تک ہے جہاں میں حق و باطل کا فسانہ
سجاد کی آہٹ سے لرزتی رہی شاہی
سجاد کی ہیبت سے اجل ڈول رہی ہے
سجاد کی صورت ہے کہ قرآن کی سورۃ
جب ظلم کبھی دہر کو برباد کرےگا!
آواز سلاسل سے کئی حشر جگاۓ
سجاد نے اسلام کی تقدیر جگا دی
اے آدمِ سادات و نشان رخ حسنینؑ
انبوہ الم میں بھی مناجات صمد ہے
اے قافلہ سالارِ غریباں، مرے سردار
دنیا ہے فدا چاند کی ادنیٰ سی جھلک پر
ہے صبح کا تارا کہ ترا آخری آنسو
شبنم نے جو پتوں کے کبھی چاک سیے ہیں
— Mohsin Naqvi\
