مجھے وہ زباں نہیں چاہیے
تِرے پیار میں ہیں مِری رُتیں
مجھے یہ جہاں نہیں چاہیےتِری خاک پا ہے مِری حنا
تِرا عکس بھی مِرا آئنہ
میں فقط نظر تو نظارہ گر
مجھے تو کہاں نہیں چاہیےجو نظر میں ہو تِرا روپ بھی
شب ماہ لگتی ہے دھوپ بھی
تِری رحمتیں جو پناہ دیں
کوئی سائباں نہیں چاہیےمِرے سانس ہوں تِری چاپ ہو
فلک و زمیں کا ملاپ ہو
تِری روشنی کے سوا کوئی
سرِ کوئے جاں نہیں چاہیےمِرے دھیان کو وہ رسائی دے
مجھے تو یہیں سے دکھائی دے
کوئی واسطہ کوئی راستہ
کوئی کارواں نہیں چاہیےیہ ترا مظفر خوش نوا
جسے مانتے ہیں شہ و گدا
تِرے سنگ دَر پہ مَرے اگر
تیرے تیور، میرا زیور
تیرا شیوہ، میرا مسلک
مجھ کو عشق نبی، اس قدر مل گیا
جگمگائے نہ کیوں، میرا عکس دروں
صاحبّ التّاج وہ شاہ معراج وہ شہسوار بُراق و امیر عَلَم
