یہ دل بھی لامکاں ہے اس لیے اس دل میں رہتا ہےوہ خالق بھی زمانے کا زمانہ بھی ہے نام اس کا
وہ ہر ماضی میں ہر اک حال و مستقبل میں رہتا ہےشکست و فتح آنسو قہقہے ٗ احکام ہیں اس کے
وہی لا حاصلی میں ہے وہی حاصل میں رہتا ہےپہنچتا ہے وہی اس تک ، جو کر لے پار ذات اپنی
وہ رہنے کو تو ہر دریا میں ہر ساحل میں رہتا ہےلگا لیتی ہے دانشمندیِ مومن سراغ اس کا
وہ اک حل کی طرح ہر عقدہء مشکل میں رہتا ہےمظفر ہم جب اس کے ذکر کی محفل سجاتے ہیں
تیرے تیور، میرا زیور
تیرا شیوہ، میرا مسلک
مجھ کو عشق نبی، اس قدر مل گیا
جگمگائے نہ کیوں، میرا عکس دروں
صاحبّ التّاج وہ شاہ معراج وہ شہسوار بُراق و امیر عَلَم
