نبض ایماں تیری نبضیں ڈوب جانے سے چلیگھر سے تجھ کو کر بلا کی سمت جاتا دیکھ کر
ابر اُٹھا صحرا سے بجلی آشیانے سے چلیخون سے تو نے بنایا راستہ سچائی کا
آدمیت حق کی راہوں پر چلانے سے چلینذرِ دیں جاں ہی نہیں سب لخت جاں بھی کردیے
رِیت یہ تجھ سے چلی تیرے گھرانے سے چلیآنے والا لمحہ تیری بیعت کر چکا
بات تیری از سرِ نو ہر زمانے سے چلیمیں محمد کا غلام آلِ محمد کا غلام
اپنی ہر تصویر اِس آئینہ خانے سے چلیتو نے معنی ہی بدل ڈالے شکست و فتح کے
رسم ہستی اپنی ہستی کو مٹانے سے چلیزندگی مومن کی ہوتی ہے مظفر ؔامتحاں
صاحبّ التّاج وہ شاہ معراج وہ شہسوار بُراق و امیر عَلَم
مجھ کو عشق نبی، اس قدر مل گیا
جگمگائے نہ کیوں، میرا عکس دروں
تیرے تیور، میرا زیور
تیرا شیوہ، میرا مسلک
