آج کی رات ضیائوں کی ہے بارات کی رات
شب معراج وہ اَوْحیٰ کے اشارات کی رات
چھائی رہتی ہیں خیالوں میں تمہاری زلفیں
رِند پیتے ہیں تری زلف کے سائے میں سدا
رخِ تابانِ نبی زلف معنبر پہ فدا
دل کا ہر داغ چمکتا ہے قمر کی صورت
ہر شب ہجر لگی رہتی ہے اشکوں کی جھڑی
جس کی تنہائی میں وہ شمع شبستانی ہو
بلبل باغِ مدینہ کو سنا دے اخترؔ
— Mufti Akhtar Raza Khan Qadri Azhari\
