آؤ تسبیح صبح و شام کریں
ہر طرف جان و دل بچھا دیجئے
چشمِ تر، سوز آرزو لے کر
آج وہ پوچھنے تو آئے ہیں
ان کا آنا تھا کچھ خبر نہ رہی
ان کے کوچے میں سر کے بل جا کر
ان کی دہلیز چومنے والے
تیری طلعت مہ ربیع میں ہے
جل اٹھے گا یہ عالم ہستی
ان کی زلفیں لہر کے محشر میں
تیرے چہرے کی چاندنی کے شہید
کیا عجب ہے وہ مہرباں ہو کر
جن کو حسن ازل میں ڈھلنا ہو
تم من و تو کی الجھنوں کے لئے
کوئی بجلی جلا ہی دے شاید
تو بھی آ کاسۂ نظر لے کر
تو ہمیں یا بھی کرے نہ کرے
راز ہستی کھلے نہیں طاہؔر
— Shaykh Ul Islam Dr Muhammad Tahir Ul Qadri\
