آقا کا در سخی ہے مدینے میں جا کے دیکھ
ملتا ہے کیا نہیں وہاں سر کو جھکا کے دیکھ
قسمت میں جو نہیں ہے تری وہ بھی پاۓ گا
دے پنجتن کا واسطہ اور دیکھ لے کرم
نامِ حسن حسین پہ رکھ لیں گے آقا لاج
رحمت سے سب کی جھولیاں بھرتے حضور ہیں
شہرِ نبی میں مانگ مقدر سے بھی سوا
اے میرے دل حضور کی نظر کرم ہے یہ
اشکوں سے حاضری کی دعا مانگ پھر کمالؔ
سر کو قدم بنا کر مناسب ہے یہ کمالؔ
— Unknown
