آبروئے مومناں احمد رضا خاں قادری
علم میں بحرِ رَواں احمد رضا خاں قادری
علم کے ہیں گلستاں احمد رضا خاں قادری
حق شناس و حق نما و نائبِ شمس الضحیٰ
باغِ دِیں میں نغمہ خوان وخوش بیاں شیریں زباں
چشمِ اِیماں سے اگر دیکھو تو ہیں ایماں کی جان
تیرا علم و فضل و شان و شوکت و جاہ و حشم
ہے عرب کے عالموں کا مَدح خواں سارا جہاں
تم سے گلزارِ شریعت میں کھلے خوش رنگ پھول
روز اَفزوں حشر تک یارب ترقی پر رہے
صدقۂ شاہِ عرب یوماً فیوماً ہو بلند
دِین کا دشمن ہو یا ہو دوست سب کے واسطے
تیرے صدقہ میں خدا چاہے تو پائیں گے غلام
حق تعالیٰ نے کیے بے حد کمالات و علوم
سیف اَعدا کے لیے مومن کے حق میں ہے سپر
اہلسنّت کے سروں پر دائما رکھے خدا
عالمانِ مکہ و طیبہ نے لی تجھ سے سند
کیا ستا سکتے ہیں تجھ کو تیرے اَعدا مرشدا
پڑ گیا ہے پشت پر اَعدا کی اب کیا جائے گا
دیکھ کر جلوہ اَشِدَّاءُ عَلَی الْکُفَّار کا
چیر کر بدمذہبوں کے دل میں گزری وار پار
آ چلی تھی شیخِ نجدی کے بیاباں میں بہار
فتح دی حق نے تجھے اَعدائے دیں پر دائما
حق اسے کہتے ہیں دیکھو رَد نہ کوئی کرسکا
کیا ستاتے تجھ کو اَعدا تھی یہ حکمت خلق کا
دعویٔ اَعدا حقیقت میں کسوٹی تھا کہ ہوں
تھے وصی احمد محدث رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ
خاندان پاک برکاتیہ کا چشم و چراغ
شاہ پیلی بھیت کے حضرت محمد شیر خان
رامپوری صابری چشتی میاں ناصر ولی
حاضر و غائب ترے حق میں دعاؤں کے لیے
آپ کا حامد ہے حامد سید کونین کا
مُحْیِ سنت اور مجدد اس صدی کے آپ ہیں
یاد رکھیں گے قیامت تک غلامانِ رسول
اے میرے اچھے کے اچھے مجھ کو بھی اچھا بنا
صدقۂ سرکار جیلانی پھلیں پھولیں مدام
دے مبارکباد ان کو قادری رضوی جمیلؔ
— Jamil Ur Rehman Qadri\
