عجب رنگ پر ہے بہارِ مدینہ
مبارک رہے عندلیبو تمہیں گل
بنا شہ نشیں خسروِ دو جہاں کا
مری خاک یارب نہ برباد جائے
کبھی تو معاصی کے خرمن میں یا رب
رگِ گل کی جب نازُکی دیکھتا ہوں
مَلائک لگاتے ہیں آنکھوں میں اپنی
جدھر دیکھیے باغِ جنت کھلا ہے
رہیں اُن کے جلوے بسیں اُن کے جلوے
حرم ہے اسے ساحت ہر دو عالم
دو عالم میں بٹتا ہے صدقہ یہاں کا
بنا آسماں منزلِ ابن مریم
مرادِ دلِ بلبلِ بے نوا دے
شرف جن سے حاصل ہوا انبیا کو
— Hassan Raza Khan Barelvi\
