اک کائناتِ نور ہے جالی کے اُس طرفصدیق اور عمر ہی سے پوچھیں کہ کس قدر
تسکین ہے سرور ہے جالی کے اُس طرفجی چاہتا ہے چھو لوں غلافِ مزارِ پاک
لیکن پہنچ سے دور ہے، جالی کے اُس طرفیہ اور بات جانے سے عاجز ہے آدمی
کِھنچتا مگر ضرور ہے جالی کے اس طرفآتی ہے اب بھی وادیِ ایمن سے یہ صدا
رشکِ کلیمِ طور ہے جالی کے اس طرفجی چاہتا تو ہے کہ لپٹ جاؤں مظہری
— Hussnain Mazhari\
Read more soulful naats, hamd and manqbat at Naat Lines.
