عاشقو وِرد کرو صَلِّ عَلٰی آج کی رات
زیبِ دنیا ہوئے وہ شاہِ ہدیٰ آج کی رات
پھیلی عالم میں محمد کی ضیا آج کی رات
مانگ لو مانگنا ہو جس کو دعا آج کی رات
نار فارس کی بجھی نورِ الٰہی چمکا
خشک ساوا ہے سماوا میں ہے دریا جاری
اس لیے نصب کیا سبز علم کعبے پر
اہل توحید سے تکبیر کا وہ شور اُٹھا
زلزلہ آگیا شق ہوگیا قصرِ کسریٰ
شمع توحید سے روشن ہوا سارا عالم
سرنگوں ہوگئے بت رُوئے زمیں کے سارے
سرِ اَفلاک خمیدہ ہے فلک کے آگے
آسماں ہوتا ہے قرباں یہ زمیں سے کہہ کر
جانور دیتے ہیں آپس میں مبارکبادی
گل وہ پھولا ہے مہک جائیں گے دونوں عالم
خلق پر برسیں گے اب خوب کرم کے جھالے
آرہے ہیں دَرِ اَقدس پہ مرادیں لینے
کسی بیکس کی زباں پر یہ صدا ہے پیہم
اپنے محبوب کی اللہ نے اُمت میں کیا
اے جمیلؔ رضوی وصف نبی کر اتنا
— Jamil Ur Rehman Qadri\
