اَلسَّلَام اے خسروِ دنیا و دِیں
اَلسَّلَام اے بادشاہِ دو جہاں
اَلسَّلَام اے نورِ ایماں اَلسَّلَام
اے شکیبِ جانِ مضطر اَلسَّلَام
دَرد و غم کے چارہ فرما اَلسَّلَام
اے مرادیں دینے والے اَلسَّلَام
دَرد و غم میں مبتلا ہے یہ غریب
نبضیں ساقط رُوح مضطر جی نڈھال
بے سہاروں کے سہارے ہیں حضور
ہم غریبوں پر کرم فرمائیے
بے قراروں کے سرہانے آئیے
جاں بلب کی چارہ فرمائی کرو
شام ہے نزدیک منزل دُور ہے
مغربی گوشوں میں پھوٹی ہے شفق
راہ نامعلوم صحرا پرخطر
طائروں نے بھی بسیرا لے لیا
ہر طرف کرتا ہوں حیرت سے نگاہ
سو بلائیں چشمِ تر کے سامنے
دل پریشاں بات گھبرائی ہوئی
ظلمتیں شب کی غضب ڈھانے لگیں
ان بلاؤں میں پھنسا ہے خانہ زاد
اے عرب کے چاند اے مہرِ عجم
فرش کی زینت ہے دَم سے آپ کے
آپ سے ہے جلوۂ حق کا ظہور
آپ سے روشن ہوئے کون و مکاں
اے خداوند عرب شاہ عجم
ہم سیہ کاروں پہ رحمت کیجیے
اپنے بندوں کی مدد فرمائیے
ہو اگر شانِ تبسم کا کرم
ظلمتوں میں گم ہوا ہے راستہ
ہاں دکھا جانا تجلی کی ادا
دیکھیے کب تک چمکتے ہیں نصیب
ملتجی ہوں میں عرب کے چاند سے
میں بھکاری ہوں تمہارا تم غنی
تنگ آیا ہوں دلِ ناکام سے
آپ کا دَربار ہے عرش اِشتِباہ
مانگتے پھرتے ہیں سلطان و امیر
غمزدوں کو آپ کر دیتے ہیں شاد
میں تمہارا ہوں گدائے بے نوا
میں غلامِ ہیچ کارہ ہوں حضور
اچھے اچھوں کے ہیں گاہک ہر کہیں
کیجیے رحمت حسنؔ پر کیجیے
— Hassan Raza Khan Barelvi\
